ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / لنگایت طبقے کے لئے ریزرویشن کے مطالبے کی مخالفت میں نامدھاری سماج کی طرف سے 22فروری کو بھٹکل میں احتجاج کا اعلان

لنگایت طبقے کے لئے ریزرویشن کے مطالبے کی مخالفت میں نامدھاری سماج کی طرف سے 22فروری کو بھٹکل میں احتجاج کا اعلان

Sun, 07 Feb 2021 19:30:36    S.O. News Service

بھٹکل:7؍فروری (ایس اؤ نیوز) لنگایت طبقے کو  پسماندہ طبقات 2A میں شامل کرکے ریزرویشن کا مطالبہ کرنے پر بھٹکل کے 20 سماجوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور اس کی مخالفت میں ان سماج کے لیڈران نے 22 فروری کو بھٹکل میں سخت احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھٹکل کے 20 سماجوں کے رہنماوں پر مشتمل ایک کمیٹی  " ہندولیدا  .ورگا 2A  ہت رکشھنا ویدیکے" کے زیراہتمام   بھٹکل آسارکیری  میں واقع  نچل مکی وینکٹ رمن مندر میں اتوار کو پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے  نامدھاری مذہبی رہنما و پیشوا  برہمانند سرسوتی سوامی جی نے   ریاست کرناٹکامیں لنگائیت کے پنچم سالی نامی طبقے کی طرف سے پسماندہ طبقات 2اے گروپ میں شامل کرتے ہوئے ریزرویشن کامطالبہ لےکر جاری جدوجہد کی سخت مخالفت کی اور  کہاکہ فی الحال 2اے گروپ میں جو بھی شامل ہیں وہ کوئی نئی چیز کا مطالبہ نہیں کررہےہیں ۔ جب کہ لنگائیت نئی چیز کی مانگ کررہےہیں، سوامی جی نے کہا کہ حقیقت میں لنگایت  بہت ہی اونچے مقام پرہیں، کئی مواقع انہیں حاصل ہیں  اور اُس کا بہتر استعمال  بھی کررہے ہیں ، اس کے باوجودوہ لوگ پورے آسمان پر قبضہ جمانے کی فکر کررہے ہیں جو نہ  صحیح  ہے اور نہ  ہی انصاف پر   ہے۔ انہوں نے  کہاکہ موجودہ حالات کو برقرار رکھنےکا مطالبہ لےکر ہم  22فروری کو بھٹکل میں پرامن احتجاج کریں گے۔

 انہوں نے کہاکہ جو بھی مذہبی پیشوا ہوتے ہیں انہیں پسماندہ لوگوں  کی فلاح وبہبودی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ حکومتوں کی تنقید کرتےہوئے سوامی جی نے کہاکہ زمانےکے لحاظ سے ریاستی حکومتیں اکثریت کا پیار  اور اعتماد حاصل کرنے اور ووٹ بینک حاصل کرنے  کے لئے تنہا مقصد سے کام کرتی ہیں جو کہ صحیح نہیں ہے۔ مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں کا مقصد  اکثریت والے طبقے پر قبضہ جما کر ان کے ووٹ حاصل کرنا ہوتاہے اور پسماندہ طبقات کے ساتھ جو نا انصافی ہورہی ہے اس تعلق سے عدالت فیصلہ کرتی ہے ۔ یعنی انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وہ انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا  سکتے ہیں۔

ہیتھا رکھشنا ویدیکے  پسماندرہ طبقات ( بیک ورڈ کلاس) کے صدر اور بھٹکل کے سابق رکن اسمبلی جےڈی نائک نے کہا کہ  ہم جو احتجاج کررہے ہیں وہ ہماری آنے والی نسلوں کو نقصان سے بچانے کے لئے کررہے ہیں، فی الحال بیک ورڈ کلاس (2A) کو صرف 15 فیصد ہی ریزرویشن  ملتا ہے اب چونکہ کرناٹک میں سب سے زیادہ اکثریت لنگایتوں کی ہے، اور لنگایتوں کو  پسماندہ طبقات میں شامل کیا گیا  تو ظاہر ہے کہ اصلی پسماندہ لوگوں کو کچھ نہیں ملے گا  اوروہ اپنے حق سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی طور پر  لنگایت کے پنچم سالی طبقہ کو پسماندہ طبقہ میں شامل نہ کیا جائے اور مرکزی حکومت کو ایسی کوئی بھی سفارش روانہ نہ کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی جانے کے لئے تیار ہیں۔ جے ڈی نائک نے کہا کہ اگر مجموعی ریزرویشن 70 فیصد اور 80 فیصد کو عبور کرتاہے تو اسے پسماندہ طبقے میں شامل کیا جاسکتا ہے ، لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قانون میں اس کی  کوئی شق موجود بھی ہے  یا نہیں۔

وینکٹ رمن مندر بورڈ کے صدر کرشنا نائک اور دیواڑیگا سماج کے نامزد صدر ایم کے فقّی نے  زور دے کر کہا کہ اگر پسماندہ طبقات میں اکثریتی طبقوں کو بھی شامل کیا جاتاہے تو پھر ہم لوگوں کو پسماندہ ذات یا شیڈول ٹرائب میں شامل کیا جانا چاہئے۔اس موقع پر سچن مہالے نے بھی خطاب کیا۔ سبرایا نائک  ،  نارائن  منجوناتھ  شیٹی ، وامن  شیرساٹ ، ناگراج رائیکر ، دیوی داس اچاری ، وٹھل نائک و دیگر بھی موجود تھے۔


Share: